
کورس 106 میں ہم نے سیکھا کہ باغ عدن میں خدا نے مرد اور عورت کو ایک ایسے ماحول میں رکھا جہاں وہ کامل رفاقت اور خدا کی تخلیق کے فضل سے لطف اندوز ہوسکتے تھے ۔ بنی نوع انسان کی طرف سے خُدا کی نافرمانی نے خُدا کی بھلائی اور فراہمی پر سے اُس کا بھروسہ توڑ دیا۔ اپنی دیکھ بھال کرنے کے لیے انسان اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرنے لگ گیا جس کے لیے اُسے چاہے اپنے اطراف میں کسی دوسرے انسان کی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے ۔ خوف ، ، لالچ اور خود غرضی سے رشتے چکنا چور ہو گئے۔ بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا اور انسان اور اس کے پیارے خالق کے درمیان کا رشتہ مخالفت پر مبنی ہو گیا۔
ان رشتوں کو بحال کرنے کے لیے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ۔ خوف اور گناہ کے غلام بننے کے بجائے، ہمیں اپنے پیارے باپ کے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیا (گلتیوں 4: 6-7) ۔ مسیح نے گناہ اور موت پر خُدا کے اختیار کا مظاہرہ کر کے دکھایا اور اپنے نئے سرِے سے پیدا ہونے والے فرزندوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے کے لیے قوت بخشی۔ اعمال کے باب 2 میں، روح القدس کے آنے کے ساتھ، ہزاروں زندگیاں تبدیل ہو گئیں اور خدا کے لوگ اپنے مال و اسباب کے ساتھ اتنی فیاضی دکھانے لگے کہ اُن میں کوئی کوئی محتاج نہ رہا۔ خُدا کا منصوبہ یہ ہے کہ تخلیق میں اُس کا فیاضی پر مبنی فضل اُس کی نومولود کلیسیا میں دکھائی دے۔ یہ بنیادی تبدیلی ہمارے تمام تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
۔
اسباق:
خاندان میں رشتے
کام اور ساتھی کارکنوں کے ساتھ رشتہ
دنیاوی چیزوں کے ساتھ رشتہ
حکومتی حکام کے ساتھ رشتہ
ناایمانداروں کے ساتھ رشتہ
مواد کو ڈاؤن لوڈ، استعمال، اور/یا پروگریسنگ ٹوگیدر کرکے آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارے مواد کو تبدیل نہیں کریں گے اور اسے اپنے طور پر پیش کریں گے یا اسے کسی بھی طرح فروخت کرنے کی کوشش کریں گے۔
